❮
❯
حدیث نمبر: 11120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: كَانَتْ لِي عَلَى رَجُلٍ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ عِنْدِي، وَلَكِنِ اكْتُبْهَا عَلَى طَعَامٍ إِلَى الْحَصَادِ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ ".
حافظ ثناء اللہ

کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے فلاں آدمی سے کچھ درہم لینے تھے، میں اس کے پاس لینے کے لیے گیا تو اس نے کہا: میرے پاس اس وقت تو کچھ نہیں ہے، البتہ تم ان درہموں کو فصل کٹنے تک غلے کے بدلے لکھ لو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11120