السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا يجوز السلف حتى يكون بثمن معلوم في كيل معلوم أو وزن معلوم إلى أجل ولا يختلف إن كان إلى أجل معلوم باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ معلوم قیمت کے بدلے معلوم ماپ یا معلوم وزن میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے نہ ہو، اور اگر یہ معلوم مدت تک کے لیے ہو تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11117
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " السَّلَمُ كَمَا يَقُومُ السِّعْرُ رِبًا، وَلَكِنْ كَيْلٌ مَعْلُومٌ، إِلَىْ أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَاسْتَكْثِرْ مَا اسْتَطَعْتَ " وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " أَسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، وَاسْتَكْثِرْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیع سلم جیسے بھی اس کا نرخ مقرر کیا جائے وہ سود ہے، مگر جب پیمانہ معلوم ہو اور مدت معلوم ہو اور جتنا ہو سکے ان چیزوں میں اضافہ کریں، اور عبد الرزاق کی ایک روایت میں ہے کہ وزن معلوم اور مدت معلوم میں بیع سلف کرو اور اس قسم کی چیزوں میں جتنا ہو سکے اضافہ کرو۔