السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11112
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَسْأَلُكَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ: أَمَّا السَّلَمُ فِي النَّخْلِ فَإِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي نَخْلٍ لِرَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ ذَلِكَ الْعَامَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ؟ " فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ نَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.حافظ ثناء اللہ
اہل نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں بیع سلم کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلم کی تھی، اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا، اس نے یہ بات نبی ﷺ کے سامنے رکھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کا مال کیوں کھاتا ہے؟“ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اسے بیع واپس کر دو، پھر آپ ﷺ نے کھجوروں میں بیع سلم کرنے سے منع کر دیا یہاں تک کہ پھل پک جائے۔