السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11113
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ، فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ؟ ارْدُدْ عَلَيْهِ "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلف کی تو اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا، وہ جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کا مال اپنے لیے کیوں حلال سمجھتا ہے؟ اسے واپس کر دو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھجور کے پکنے سے پہلے اس میں بیع سلف نہ کرو۔“