السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11111
وَرَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: " نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسِيئًا بِنَاجِزٍ " وَقَالَ فِي التَّفْسِيرِ: قُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْرَزَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ⦗٤٠⦘ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهَا. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ دُونَ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”پھل پکنے سے پہلے بیچنے سے“ منع کیا اور ”چاندی کو سونے کے بدلے میں ادھار بیچنے سے“ منع کیا اور تفسیر میں ہے کہ میں نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ اس کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: اس کی حفاظت کی جاسکے۔