السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالبختری فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیعِ سلم کے بارے میں پوچھا جو کھجوروں میں کی گئی ہو تو انہوں نے کہا: ”کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ پک جائے۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ اس میں سے کھایا جائے اور اس کا وزن کیا جاسکے۔“
امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا: وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ تو اس نے کہا: اسے توڑ کر محفوظ کیا گیا ہو۔