حدیث نمبر: 11098
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11098
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري و مسلم 1601»