کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهِ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ سلف یعنی ادھار کے طور پر لیا، آپ ﷺ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ دے دوں، میں نے آپ ﷺ سے کہا: صدقے کے اونٹوں میں سب اس سے اچھے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اچھا اونٹ دے دو؛ کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو حق دینے میں سب سے اچھے ہوں۔“
حدیث نمبر: 11098
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 11099
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " بَاعَ جَمَلًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: عُصَيْفِيرٌ، بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا «عُصَيْفِير» نامی اونٹ بیس اونٹوں کے بدلے میں ایک آدمی کو ایک میعاد تک کے لیے فروخت کیا۔
حدیث نمبر: 11100
قَالَ: وَثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِّيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹنی چار اونٹنیوں کے بدلے میں خریدی، اس شرط پر کہ میں ربذہ میں آپ کو دوں گا۔
حدیث نمبر: 11101
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ایک جانور کے بدلے میں دو خریدے جا سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 11102
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَا رِبًا فِي الْحَيَوَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حیوانوں میں کوئی سود نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 11103
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٣٧⦘ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَبِيدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حیوانوں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11104
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ إِذَا كَانَ سِنًّا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سال اور مدت معلوم ہو تو جانوروں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11105
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ " أَنَّهُ كَرِهَ السَّلَفَ فِي الْحَيَوَانِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جانوروں میں بیع سلف کو مکروہ سمجھا ہے۔
حدیث نمبر: 11106
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ " كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَمِ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى مَا خَلَا الْحَيَوَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جانوروں کے علاوہ تمام چیزوں میں جب مدت معلوم ہو تو بیعِ سلف کو درست سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11107
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أَنَّ بَعْضَ مَنْ تَكَلَّمْ مَعَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ قَالَ لَهُ: " إِنَّمَا كَرِهْنَا السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ؛ لِأَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَيَزْعُمُ الشَّعْبِيُّ الَّذِي هُوَ أَكْبَرُ مِنَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ كَرَاهِيَتَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَسْلَفَ لَهُ فِي لِقَاحِ فَحْلِ إِبِلٍ بِعَيْنِهِ، وَهَذَا مَكْرُوهٌ عِنْدَنَا وَعِنْدَ كُلِّ أَحَدٍ، هَذَا بَيْعُ الْمَلَاقِيحِ أَوِ الْمَضَامِينِ أَوْ هُمَا. قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ الشَّافِعِيُّ بِرِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُنْقَطِعًا فِي الْكَرَاهِيَةِ، رِوَايَةَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَأَمَّا رِوَايَةُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهِيَ أَيْضًا مُنْقَطِعَةٌ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ حُذَيْفَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ: أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ ⦗٣٨⦘ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ بَنِي عَمٍّ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَتَوْا وَادِيًا فَصَنَعُوا شَيْئًا فِي إِبِلِ رَجُلٍ قَطَعُوا بِهِ لَبَنَ إِبِلِهِ، وَقَتَلُوا فِصَالَهَا، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعِنْدَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَرَضِيَ بِحُكْمِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَكَمَ أَنْ يُعْطَى بِوَادِيهِ إِبِلًا مِثْلَ إِبِلِهِ، وَفِصَالًا مِثْلَ فِصَالِهِ، فَأَنْفَذَ ذَلِكَ عُثْمَانُ، فَيُرْوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَضَى فِي حَيَوَانٍ بِحَيَوَانٍ مِثْلَهُ دَيْنًا؛ لِأَنَّهُ إِذَا قَضَى بِهِ بِالْمَدِينَةِ وَأَعْطَاهُ بِوَادِيهِ كَانَ دَيْنًا، وَتَزِيدُ أَنْ تُرْوَى عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ يَقُولُ بِقَوْلِهِ، وَأَنْتُمْ تَرْوُونَ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَسْلَمَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي وُصَفَاءَ، أَحَدُهُمْ أَبُو زِيَادَةَ أَوْ أَبُو زَائِدَةَ مَوْلَانَا، وَتَرْوُونَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِي أَبْوَابِ الرِّبَا أَنْ يُسْلَمَ فِي سِنٍّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَذَكَرَهُ، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں سے کسی نے اس مسئلہ میں ان سے بحث کی تو آپ نے اس سے کہا: ہم صورتوں میں بیع سلم ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ روایت ان سے منقطع ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسئلہ اس سے بڑا ہے جس نے ان سے کراہت بیان کی ہے کہ انہوں نے سانڈ میں بیع سلف کی اور یہ ہمارے ہاں مکروہ ہے اور ہر ایک کے ہاں بیع محاقلہ اور مضابنہ یا دونوں ہیں۔ [صحیح]
شیخ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کراہت کے متعلق ہے وہ منقطع ہے اسی طرح سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ بھی پچھلی روایت کی طرح منقطع ہے، چونکہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چچازاد کی وادی میں آئے، انہوں نے کسی آدمی کے اونٹ کے ساتھ کچھ معاملہ کیا۔ اس کا دودھ کاٹ دیا اور اس کے بچوں کو قتل کر دیا تو وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے خوش ہو گیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آدمی کو اس اونٹ کی طرح اونٹ اور ان دودھ پیتے بچوں کی طرح دودھ پیتے بچے دیے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حیوان کے بدلے میں اس جیسا حیوان (بطورِ سزا) فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ انہوں نے پچھلی روایت میں فیصلہ کیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حیوانوں میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی بیع سلم کو سود کی اقسام میں شمار کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کراہت کے متعلق ہے وہ منقطع ہے اسی طرح سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ بھی پچھلی روایت کی طرح منقطع ہے، چونکہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چچازاد کی وادی میں آئے، انہوں نے کسی آدمی کے اونٹ کے ساتھ کچھ معاملہ کیا۔ اس کا دودھ کاٹ دیا اور اس کے بچوں کو قتل کر دیا تو وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے خوش ہو گیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آدمی کو اس اونٹ کی طرح اونٹ اور ان دودھ پیتے بچوں کی طرح دودھ پیتے بچے دیے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حیوان کے بدلے میں اس جیسا حیوان (بطورِ سزا) فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ انہوں نے پچھلی روایت میں فیصلہ کیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حیوانوں میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی بیع سلم کو سود کی اقسام میں شمار کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔