کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهِ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ سلف یعنی ادھار کے طور پر لیا، آپ ﷺ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ دے دوں، میں نے آپ ﷺ سے کہا: صدقے کے اونٹوں میں سب اس سے اچھے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اچھا اونٹ دے دو؛ کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو حق دینے میں سب سے اچھے ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ "، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " بَاعَ جَمَلًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: عُصَيْفِيرٌ، بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن بن محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا «عُصَيْفِير» نامی اونٹ بیس اونٹوں کے بدلے میں ایک آدمی کو ایک میعاد تک کے لیے فروخت کیا۔
قَالَ: وَثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِّيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹنی چار اونٹنیوں کے بدلے میں خریدی، اس شرط پر کہ میں ربذہ میں آپ کو دوں گا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ایک جانور کے بدلے میں دو جانور ایک میعاد تک ادھار خریدے جا سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَا رِبًا فِي الْحَيَوَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حیوانوں میں کوئی سود نہیں ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٣٧⦘ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَبِيدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حیوانوں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ إِذَا كَانَ سِنًّا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب جانور کی عمر اور مدت معلوم ہو تو جانوروں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ " أَنَّهُ كَرِهَ السَّلَفَ فِي الْحَيَوَانِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جانوروں میں بیع سلف کو مکروہ سمجھا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ " كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَمِ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى مَا خَلَا الْحَيَوَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جانوروں کے علاوہ تمام چیزوں میں جب مدت معلوم ہو تو بیعِ سلف کو درست سمجھتے تھے۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أَنَّ بَعْضَ مَنْ تَكَلَّمْ مَعَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ قَالَ لَهُ: " إِنَّمَا كَرِهْنَا السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ؛ لِأَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَيَزْعُمُ الشَّعْبِيُّ الَّذِي هُوَ أَكْبَرُ مِنَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ كَرَاهِيَتَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَسْلَفَ لَهُ فِي لِقَاحِ فَحْلِ إِبِلٍ بِعَيْنِهِ، وَهَذَا مَكْرُوهٌ عِنْدَنَا وَعِنْدَ كُلِّ أَحَدٍ، هَذَا بَيْعُ الْمَلَاقِيحِ أَوِ الْمَضَامِينِ أَوْ هُمَا. قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ الشَّافِعِيُّ بِرِوَايَةِ مَنْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُنْقَطِعًا فِي الْكَرَاهِيَةِ، رِوَايَةَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَأَمَّا رِوَايَةُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهِيَ أَيْضًا مُنْقَطِعَةٌ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ حُذَيْفَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ: أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ ⦗٣٨⦘ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ بَنِي عَمٍّ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَتَوْا وَادِيًا فَصَنَعُوا شَيْئًا فِي إِبِلِ رَجُلٍ قَطَعُوا بِهِ لَبَنَ إِبِلِهِ، وَقَتَلُوا فِصَالَهَا، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعِنْدَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَرَضِيَ بِحُكْمِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَكَمَ أَنْ يُعْطَى بِوَادِيهِ إِبِلًا مِثْلَ إِبِلِهِ، وَفِصَالًا مِثْلَ فِصَالِهِ، فَأَنْفَذَ ذَلِكَ عُثْمَانُ، فَيُرْوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَضَى فِي حَيَوَانٍ بِحَيَوَانٍ مِثْلَهُ دَيْنًا؛ لِأَنَّهُ إِذَا قَضَى بِهِ بِالْمَدِينَةِ وَأَعْطَاهُ بِوَادِيهِ كَانَ دَيْنًا، وَتَزِيدُ أَنْ تُرْوَى عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ يَقُولُ بِقَوْلِهِ، وَأَنْتُمْ تَرْوُونَ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَسْلَمَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي وُصَفَاءَ، أَحَدُهُمْ أَبُو زِيَادَةَ أَوْ أَبُو زَائِدَةَ مَوْلَانَا، وَتَرْوُونَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِي أَبْوَابِ الرِّبَا أَنْ يُسْلَمَ فِي سِنٍّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَذَكَرَهُ، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جن لوگوں نے اس مسئلہ میں ان سے بحث کی ان میں سے کسی نے ان سے کہا: ہم حیوانات میں بیع سلم کو صرف اس لیے ناپسند کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ روایت ان سے منقطع ہے، اور امام شعبی رحمہ اللہ، جو اس راوی سے بڑے ہیں جس نے ان سے کراہت بیان کی ہے، کہتے ہیں کہ انہوں نے تو صرف ایک معین سانڈ اونٹ کی جفتی سے پیدا ہونے والے بچوں میں بیع سلف کی تھی، اور یہ ہمارے ہاں بھی مکروہ ہے اور ہر ایک کے ہاں بھی، یہ بیع ملاقیح یا بیع مضامین ہے یا دونوں ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی مراد ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی وہ روایت ہے جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کراہت کے متعلق منقطع مروی ہے، اسی طرح سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ بھی منقطع ہے، چونکہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ روایت ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن رحمہ اللہ سے کہا: آپ ہی نے مجھے ابو یوسف سے، وہ عطاء بن سائب سے، وہ ابو البختری سے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے چچازاد ایک وادی میں آئے، انہوں نے کسی آدمی کے اونٹوں کے ساتھ کچھ ایسا معاملہ کیا جس سے ان کا دودھ کاٹ دیا اور ان کے بچوں کو مار ڈالا تو وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آدمی کو اس کی وادی میں اس کے اونٹوں کی طرح اونٹ اور اس کے دودھ پیتے بچوں کی طرح دودھ پیتے بچے دیے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے حیوان کے بدلے میں اس جیسے حیوان کا بطورِ قرض فیصلہ کیا، کیونکہ جب انہوں نے مدینہ میں یہ فیصلہ کیا اور اسے اس کی وادی میں دلوایا تو یہ قرض ہوا، اور آپ مزید یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف تھا۔ اور آپ لوگ مسعودی سے، وہ قاسم بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے چند غلاموں میں بیع سلم کی گئی، جن میں سے ایک ہمارا آزاد کردہ غلام ابو زیادہ یا ابو زائدہ تھا۔
اور آپ لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حیوانوں میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے، اور نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک اور آدمی سے بھی۔ شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سود کی اقسام میں معین عمر کے جانور میں بیع سلم کرنے کو ذکر کیا۔ یہ قاسم بن عبدالرحمن کے واسطے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی مراد ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی وہ روایت ہے جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کراہت کے متعلق منقطع مروی ہے، اسی طرح سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ بھی منقطع ہے، چونکہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ روایت ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن رحمہ اللہ سے کہا: آپ ہی نے مجھے ابو یوسف سے، وہ عطاء بن سائب سے، وہ ابو البختری سے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے چچازاد ایک وادی میں آئے، انہوں نے کسی آدمی کے اونٹوں کے ساتھ کچھ ایسا معاملہ کیا جس سے ان کا دودھ کاٹ دیا اور ان کے بچوں کو مار ڈالا تو وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ وہ شخص ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گیا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آدمی کو اس کی وادی میں اس کے اونٹوں کی طرح اونٹ اور اس کے دودھ پیتے بچوں کی طرح دودھ پیتے بچے دیے جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے حیوان کے بدلے میں اس جیسے حیوان کا بطورِ قرض فیصلہ کیا، کیونکہ جب انہوں نے مدینہ میں یہ فیصلہ کیا اور اسے اس کی وادی میں دلوایا تو یہ قرض ہوا، اور آپ مزید یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف تھا۔ اور آپ لوگ مسعودی سے، وہ قاسم بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے چند غلاموں میں بیع سلم کی گئی، جن میں سے ایک ہمارا آزاد کردہ غلام ابو زیادہ یا ابو زائدہ تھا۔
اور آپ لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حیوانوں میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے، اور نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک اور آدمی سے بھی۔ شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سود کی اقسام میں معین عمر کے جانور میں بیع سلم کرنے کو ذکر کیا۔ یہ قاسم بن عبدالرحمن کے واسطے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن وہ منقطع ہے۔