السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من أجاز السلم في الحيوان بسن وصفة وأجل معلوم إن كان إلى أجل، ومن كرهه باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهِ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ سلف یعنی ادھار کے طور پر لیا، آپ ﷺ کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ دے دوں، میں نے آپ ﷺ سے کہا: صدقے کے اونٹوں میں سب اس سے اچھے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اچھا اونٹ دے دو؛ کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو حق دینے میں سب سے اچھے ہوں۔“