السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: السلف في الشيء ليس في أيدي الناس إذا شرط محله في وقت يكون موجودا فيه باب: ایسی چیز میں بیعِ سلم کرنا جو اس وقت لوگوں کے پاس موجود نہ ہو بشرطیکہ اس کی سپردگی کا وقت ایسا مقرر کیا گیا ہو جس میں وہ چیز عام طور پر دستیاب ہوتی ہو۔
حدیث نمبر: 11093
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ شَيْئًا إِلَى أَجَلٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابو معاویہ، یحییٰ بن سعید سے اور ابراہیم بن محمد، یحییٰ بن سعید سے، وہ نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی کوئی چیز وقتِ معلوم تک کے لیے بیچ ڈالے اور اس کے پاس اس کی اصل موجود نہ ہو۔