السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: السلف في الشيء ليس في أيدي الناس إذا شرط محله في وقت يكون موجودا فيه باب: ایسی چیز میں بیعِ سلم کرنا جو اس وقت لوگوں کے پاس موجود نہ ہو بشرطیکہ اس کی سپردگی کا وقت ایسا مقرر کیا گیا ہو جس میں وہ چیز عام طور پر دستیاب ہوتی ہو۔
حدیث نمبر: 11092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو بُرْدَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: فَسَأَلْتُهُمَا عَنِ السَّلَفِ، فَقَالَا: " كُنَّا نُصِيبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطُ الشَّامِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّيْتِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ: أَكَانَ لَهُمْ زَرْعٌ، أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ زَرْعٌ؟ قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ اور ابو بردہ رحمہ اللہ نے ابن ابزی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان دونوں سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمیں غنیمت کا حصہ ملتا تھا، پھر ہمارے پاس شام کے لوگ آتے، ہم ان سے گندم، جو اور کشمش میں وقت مقررہ تک کے لیے بیع سلف کرتے تھے، ان سے کہا گیا: کیا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم اس بارے میں ان سے نہیں پوچھتے تھے۔