السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: السلف في الشيء ليس في أيدي الناس إذا شرط محله في وقت يكون موجودا فيه باب: ایسی چیز میں بیعِ سلم کرنا جو اس وقت لوگوں کے پاس موجود نہ ہو بشرطیکہ اس کی سپردگی کا وقت ایسا مقرر کیا گیا ہو جس میں وہ چیز عام طور پر دستیاب ہوتی ہو۔
حدیث نمبر: 11091
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، أَوْ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُجَالِدٍ قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ، فَبَعَثُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إنْ كُنَّا لَنُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ " زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ: إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ کا بیع سلف کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو انہوں نے مجھے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں گندم، جو، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کیا کرتے تھے۔ ابن کثیر نے یہ زیادتی کی ہے کہ یہ بیع ہم اس قوم کے ساتھ کرتے تھے جن کے پاس یہ چیزیں نہیں ہوتی تھیں۔ ابو مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر ان کا آپس میں اتفاق ہو گیا، پھر میں نے یہی مسئلہ ابن ابزی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔