السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في كراهية بيع المصاحف باب: قرآن مجید (مصاحف) کی بیع کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11074
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَاشْتِرَائِهَا ".حافظ ثناء اللہ
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں لکھ رہا تھا کہ جابر بن زید رحمہ اللہ آئے، چنانچہ میں نے کہا: اے ابو شعثاء! آپ میرے اس کام کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کا یہ کام بہت اچھا ہے۔ آپ ایک ایک آیت اور کلمے کو لکھ کر منتقل کر رہے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح عکرمہ رحمہ اللہ کے بارے میں مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مصحف شریف کو بیچا اور امام حسن رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔