❮
❯
حدیث نمبر: 11071
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ " أَنَّهُ كَرِهَ شِرَاءَ الْمَصَاحِفِ وَبَيْعَهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسُوا، يَعْنِي بَعْضَ الْعِرَاقِيِّينَ، يَقُولُونَ بِهَذَا، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا بِبَيْعِهَا وَشِرَائِهَا، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا يَرَى بِشِرَائِهَا بَأْسًا، وَنَحْنُ نَكْرَهُ بَيْعَهَا قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الْكَرَاهَةُ عَلَى وَجْهِ التَّنْزِيهِ تَعْظِيمًا لِلْمُصْحَفِ عَنْ أَنْ يُبْتَذَلَ بِالْبَيْعِ أَوْ يُجْعَلَ مُتَّجَرًا. وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: اشْتَرِ الْمُصْحَفَ وَلَا تَبِعْهُ، إِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ، يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ بَيْعِهِ مَعَ الْكَرَاهِيَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت علقمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مصاحف کی خرید و فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض عراقی اس کے قائل نہیں، وہ مصاحف کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگ مصحف کے خریدنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور ہم اس کے بیچنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ کراہت تنزیہی ہے، مصحف شریف کی تعظیم کے لیے کہ کہیں بیچ کر اس کی بے قدری نہ ہو یا اسے سامانِ تجارت نہ بنا لیا جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی رخصت دی تھی، اور اس کی سند ضعیف ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”مصحف خرید لو اور اسے نہ بیچو“ اگر ان سے صحیح ثابت ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصحف کو بیچنا کراہت کے ساتھ جائز ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11071