السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في كراهية بيع المصاحف باب: قرآن مجید (مصاحف) کی بیع کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ⦗٢٨⦘ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ بَيْعَ الْمَصَاحِفِ ".حضرت علقمہ رحمہ اللہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ مصحف شریف کی خرید و فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض عراقی اس کی خرید و فروخت جائز سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ مصحف کے خریدنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور ہم اس کے بیچنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں: یہ کراہت تنزیہی ہے، مصحف شریف کی تعظیم کے لیے کہ کہیں اسے سامانِ تجارت نہ بنا لیا جائے اور ایک روایت میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی رخصت دی تھی اور وہ روایت سنداً ضعیف ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ مصحف کو خرید، بیچ نہ اگر صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصحف کو بیچنا جائز تو نہیں ہے لیکن مکروہ ہے۔