❮
❯
حدیث نمبر: 11062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ شُعَيْبٍ، أَخِي عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَعْطَوْنِي بِفَضْلِ الْمَاءِ مِنْ أَرْضِهِ بِالْوَهْطِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، قَالَ: فَكَتَبْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَكَتَبَ إِلِيَّ: " لَا تَبِعْهُ، وَلَكِنْ أَقِمْ قَلْدَكَ ثُمَّ اسْقِ الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے آزادکردہ غلام سالم فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے وہط میں ان کی زمین کے زائد پانی کے بدلے تیس ہزار کی پیشکش کی، چنانچہ میں نے یہ بات عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو لکھ بھیجی تو انہوں نے میری طرف جوابی خط میں لکھا: اسے مت بیچ بلکہ باری مقرر کر دے، پھر قریب والوں کو، پھر ان کے بعد والوں کو پانی دے؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زائد پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11062
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»