السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المسافر يتيمم في أول الوقت إذا لم يجد ماء ويصلي ثم لا يعيد وإن وجد الماء في آخر الوقت باب: مسافر کا پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کر کے نماز پڑھنے اور آخر وقت میں پانی مل جانے پر بھی اسے نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّا، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مَنَ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مَنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مَنْ ⦗٣٥٤⦘ أَقَاوِيلِهِمْ وَفِيهَا وَكَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ تَيَمَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ وَجَدَ الْمَاءَ وَهُوَ فِي وَقْتٍ أَوْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ لِمَا يُسْتَقْبَلُ مَنَ الصَّلَوَاتِ وَيَغْتَسِلُ، وَالتَّيَمُّمُ مَنَ الْجَنَابَةِ وَالْوُضُوءُ سَوَاءٌ " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابی الزناد اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کئی فقہاء کو دیکھا جو اسی کے قائل تھے، ان میں سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور مدینہ کے سات فقہاء رحمہم اللہ اور کچھ اور لوگ تھے جو کہتے تھے: جس نے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر پانی پایا اور نماز کا وقت تھا یا ختم ہو چکا تھا، بہرحال اس پر نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے، وہ اگلی نمازوں کے لیے وضو کرے گا اور غسل کرے گا اور جنابت سے تیمم اور وضو کرنا برابر ہے۔