السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المسافر يتيمم في أول الوقت إذا لم يجد ماء ويصلي ثم لا يعيد وإن وجد الماء في آخر الوقت باب: مسافر کا پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کر کے نماز پڑھنے اور آخر وقت میں پانی مل جانے پر بھی اسے نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " تَيَمَّمَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ مَنَ الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَقَدِمَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا، عصر کی نماز پڑھی اور تشریف لے آئے، جب کہ سورج بلند ہو چکا تھا اور نماز دوبارہ نہیں لوٹائی۔