السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء من التشديد في الدين باب: قرض کے معاملے میں وارد ہونے والی سختی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَفَّرَ اللهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللهُ عَنْكَ خَطَايَاكَ " فَلَمَّا جَلَسَ دَعَاهُ، فَقَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ؟ " فَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کے راستہ میں صبر کرنے والا، ثواب کی نیت رکھنے والا، آگے بڑھ کر لڑنے والا اور میدان سے نہ بھاگنے والا ہو، پھر شہید کر دیا گیا تو اللہ تیرے گناہ معاف کر دے گا،“ جب وہ بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کہا تھا؟“ اس نے دوبارہ دہرایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے قرض کے، کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے ابھی مجھے یہی خبر دی ہے۔“