حدیث نمبر: 10963
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا جُلُوسًا فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ وَضَعَ رَاحَتَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ " فَسَكَتْنَا وَفَرِقْنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا التَّشْدِيدُ الَّذِي أُنْزِلَ؟ قَالَ: " فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ مَرَّتَيْنِ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ جنازہ گاہ میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر اپنی ہتھیلیوں کو اپنے منہ پر رکھ لیا اور فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» ”اللہ پاک ہے، اللہ نے آسمان سے کیا سختی نازل فرمائی ہے؟“ ہم خاموش رہے اور جدا جدا ہو گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو سختی نازل ہوئی وہ کیا تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قرض کے بارے میں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آدمی اللہ کے راستہ میں شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کر دیا جائے، پھر شہید کر دیا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اتنی دیر وہ جنت میں داخل نہ ہو گا جب تک اس کا قرض معاف نہ کر دیا جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10963
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه احمد 5/ 289»