السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في جواز الاستقراض، وحسن النية في قضائه باب: قرض لینے کے جواز اور اسے ادا کرنے میں اچھی نیت رکھنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَهُ مَالًا بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَدِمَ عَلَيْهِ مَالٌ، فَقَالَ: " ادْعُ لِي ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ " فَقَالَ لَهُ: " خُذْ مَا أَسْلَفْتَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي مَالِكَ وَوَلَدِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْوَفَاءُ " - قَالَ هِشَامٌ -: " الْأَجْرُ وَالْوَفَاءُ " وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ".اسماعیل بن ابراہیم مخزومی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ۱۰ ہزار سے زیادہ قرض حاصل کیا، جب نبی ﷺ حنین کے دن واپس آئے تو مال بھی آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ ابی ربیعہ کو بلاؤ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تو نے قرض دیا تھا لے لو۔“ «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ» ”اللہ آپ کے مال اور اولاد میں برکت دے اور قرض کا بدلہ تو شکر اور مکمل ادا کرنا ہے،“ ہشام کہتے ہیں کہ (الفاظ) «الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ» ”اجر اور پورا ادا کرنا ہے“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں۔“