حدیث نمبر: 10958
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ الضَّبِّيُّ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّايَنُ فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَالدَّيْنُ، وَلَيْسَ عِنْدَكَ قَضَاءٌ؟، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللهِ عَوْنٌ " فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا کہ آپ کے پاس ادائیگی کے لیے کچھ ہے نہیں تو قرض کیوں لیتی ہیں؟ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”جس کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی طرف سے اس کی مدد ہوتی ہے“، میں اس کی مدد کو تلاش کرتی ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10958
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الحاكم 2612»