السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في جواز الاستقراض، وحسن النية في قضائه باب: قرض لینے کے جواز اور اسے ادا کرنے میں اچھی نیت رکھنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10959
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَالدَّيْنُ؟، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ "، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ لَفْظُ حَدِيثِ الْحَجَّاجُ، وَقِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیتیں، ان سے کہا گیا: آپ کو کیا ہے کہ آپ قرض لیتی ہیں؟ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”جس کی قرض کو ادا کرنے کی نیت ہو اللہ اس کی مدد فرماتے ہیں“، میں تو اس کی مدد کی متلاشی ہوں۔