السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في جواز الاستقراض، وحسن النية في قضائه باب: قرض لینے کے جواز اور اسے ادا کرنے میں اچھی نیت رکھنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا هِشَامٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّايَنُ، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّكِ تَدَّانِينَ فَتُكْثِرِينَ الدَّيْنَ وَأَنْتِ مُوسِرَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ادَّانَ دَيْنًا يَنْوِي قَضَاءَهُ كَانَ مَعَهُ عَوْنٌ مِنَ اللهِ عَلَى ذَلِكَ، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ جَرِيرٍ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حذیفہ رحمہ اللہ، سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا کہ آپ قرض بہت زیادہ لیتی ہیں حالانکہ آپ تنگ دست نہیں ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس شخص نے ادا کرنے کی نیت سے قرض لیا تو اللہ کی اس کے ساتھ مدد ہوتی ہے“، میں تو اس کی مدد کی تلاش میں ہوں۔