السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يسوم أحدكم على سوم أخيه باب: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے“۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الرِّسَالَةِ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَسُومُ أَحَدُكُمْ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ " فَإِنْ كَانَ ثَابِتًا وَلَسْتُ أَحْفَظُهُ ثَابِتًا فَهُوَ مِثْلَ: " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِهِ " إِذَا رَضِيَ الْبَائِعُ وَأَذِنَ بِأَنْ يُبَاعَ قَبْلَ الْبَيْعِ حَتَّى لَوْ بِيعَ لَزِمَهُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ فِيمَنْ يَزِيدُ، وَبَيْعُ مَنْ يَزِيدُ سَوْمُ رَجُلٍ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَكِنَّ الْبَائِعَ لَمْ يَرْضَ السَّوْمَ الْأَوَّلَ حَتَّى طَلَبَ الزِّيَادَةَ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ السَّوْمِ قَدْ ثَبَتَ مِنْ أَوْجُهٍ.امام شافعی رحمہ اللہ (کتاب الرسالۃ) میں فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔“ اگر یہ ثابت ہو۔ لیکن میں نے اس کو یاد نہیں رکھا۔ یہ اس حدیث کی مانند ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور نہ ہی تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے۔“ جب بائع راضی ہو، اجازت دے کر فروخت کر دیا جائے بیع سے پہلے۔ اگر فروخت کر دیا گیا تو پھر بیع لازم ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو فروخت کیا جس نے زیادہ قیمت دی اور وہ بیع جس میں کوئی آدمی اپنے بھائی سے زیادہ قیمت دے لیکن فروخت کرنے والا پہلے بھاؤ پر راضی نہ تھا، یہاں تک کہ اس نے مزید طلب کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: بھاؤ والی حدیث کئی سندوں سے ثابت ہے۔