السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلَكٍ حِمًى، وَحِمَى اللهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”حلال و حرام واضح ہے اور اس کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں، جس نے گناہ سے مشابہ چیز کو چھوڑ دیا اس وجہ سے جو چیز اس سے زیادہ ظاہر تھی اور جس نے مشکوک چیز پر جرات کی، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہو جائے اور بیشک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ زمین میں اس کی نافرمانیاں ہیں۔“