❮
❯
حدیث نمبر: 10816
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللهِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ مُشْتَبِهَاتٍ "، وَرُبَّمَا قَالَ: " أُمُورًا مُشْتَبِهَةً "، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى " قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " أَوْشَكَ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ " قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ شَيْءٌ قَالَهُ الشَّعْبِيُّ ⦗٥٤٦⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اور (راوی کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! ان کے بعد میں کسی کو یہ کہتے نہیں سنوں گا، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال و حرام واضح ہے اور جو ان کے درمیان ہے وہ مشتبہ ہے“ اور بعض اوقات کہا کہ ”مشتبہ امور ہیں۔ عنقریب میں تمہارے لیے ایک مثال بیان کروں گا کہ بیشک اللہ رب العزت نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں اور جو چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ چراگاہ میں داخل ہو جائے“ راوی کہتے ہیں: بعض اوقات فرمایا کہ ”وہ چراگاہ میں چرے اور جو شک میں پڑ جاتا ہے، قریب ہے کہ وہ دلیر ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ بات اس حدیث کا حصہ ہے یا شعبی کا اپنا قول ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10816
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1946»