❮
❯
حدیث نمبر: 10787
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، بَاعَ غُلَامًا لَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَبَاعَهُ بِالْبَرَاءَةِ، فَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: بِالْغُلَامِ دَاءٌ، لَمْ يُسَمِّهِ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَاءٌ لَمْ يُسَمِّهِ لِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " بِعْتُهُ بِالْبَرَاءَةِ " فَقَضَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بِالْيَمِينِ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ لَقَدْ بَاعَهُ الْغُلَامُ وَمَا بِهِ دَاءٌ يَعْلَمُهُ، فَأَبَى عَبْدُ اللهِ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَبَاعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا، أَوْ وَلِيدَةً، أَوْ حَيَوَانًا بِالْبَرَاءَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلِمَ فِي ذَلِكَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ، فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ تَبْرِئَتُهُ، وَكَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَيْهِ، وَرُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْعَبْدَ أَوْ مَا شَاءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِالْبَرَاءَةِ مِنَ الْعُيُوبِ: فَالَّذِي نَذْهَبُ عَلَيْهِ وَاللهُ أَعْلَمُ قَضَاءُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ لَمْ يَعْلَمْهُ وَلَمْ يَبْرَأْ مِنْ عَيْبٍ عَلِمَهُ وَلَمْ يُسَمِّهِ الْبَائِعُ.
حافظ ثناء اللہ

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا غلام 800 درہم میں فروخت کیا اور اس کے ہر عیب سے برأت کا اظہار کر کے اسے فروخت کیا۔ جس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے غلام خریدا تھا، اس نے کہا: غلام کے اندر بیماری ہے، جس کا آپ نے نام نہیں لیا۔ دونوں اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس آدمی نے کہا کہ انہوں نے مجھے غلام فروخت کیا اس میں بیماری تھی، انہوں نے بتایا نہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اسے (ہر عیب سے) برأت کی شرط پر فروخت کیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ذمہ قسم ڈالی کہ وہ قسم اٹھائیں کہ جس وقت غلام فروخت کیا اس وقت اس میں کسی بیماری کے بارے میں انہیں معلوم نہ تھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا اور غلام واپس لے لیا۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ غلام 1500 درہم کا فروخت کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک متفق علیہ فیصلہ ہے کہ جس نے غلام یا لونڈی یا حیوان برأت کی شرط پر فروخت کیا تو وہ ہر عیب سے بری الذمہ ہے، الا یہ کہ وہ کسی عیب کو جان بوجھ کر چھپائے۔ اگر کوئی عیب جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو اس کی برأت اس کو کچھ فائدہ نہ دے گی اور جو اس نے فروخت کیا ہے واپس کر دیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو کوئی غلام یا حیوان عیوب سے برأت کر کے فروخت کرتا ہے: ہم جس پر عمل کرتے ہیں، واللہ اعلم، وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ جس عیب کو وہ جانتا نہیں اس سے بری ہے، لیکن جس عیب کو جانتا ہے اور فروخت کرنے والے نے اس کا نام نہیں لیا، اس سے بری نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10787
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 1274»