السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع البراءة باب: بیعِ براءت (ہر قسم کے عیب سے بری الذمہ ہو کر بیچنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّ شُرَيْحًا، كَانَ لَا يُبَرِّئُ مِنَ الدَّاءِ حَتَّى يُرِيَهُ إِيَّاهُ، قَالَ يَحْيَى: يَقُولُ: " بَرِئْتُ مِنْ كَذَا وَكَذَا وَإِنْ دَخَلَ دَاءٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ ذَلِكَ لَمْ يَبْرَأْ حَتَّى يُرِيَهُ ذَلِكَ الْعَيْبَ " وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ وَيَبْرَأُ مِنَ الدَّاءِ، قَالَ: هُوَ بَرِيءٌ مِمَّا سَمَّى، وَعَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي لَا يَبْرَأُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ عَلَى الدَّاءِ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ مِثْلَهُ.حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ بھی کسی بیماری کے عیب سے بری الذمہ قرار نہ دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ دکھا دی جائے۔
یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں سے بری الذمہ قرار دے دیتا ہوں۔ اگرچہ بیماری اس کے درمیانی وقفہ میں شروع ہوئی، وہ اس سے بری الذمہ نہ ہوں گے یہاں تک کہ اس کو یہ عیب دکھا دیا جائے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اس آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنا سامان فروخت کرتا ہے اور وہ بیماری کے عیب سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس کا اس نے نام لیا وہ اس سے بری ہے۔
(ج) قاضی شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ بری الذمہ نہ ہوگا جب تک اپنا ہاتھ بیماری والی جگہ پر نہ رکھ دے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بھی اسی کے مثل کہتے ہیں۔