السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع البراءة باب: بیعِ براءت (ہر قسم کے عیب سے بری الذمہ ہو کر بیچنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: فِي الْبَيْعِ بِالْبَرَاءَةِ فَقَالَ: أَجَابَ شَرِيكٌ عَلَى غَيْرِ مَا كَانَ فِي كِتَابِهِ، وَلَمْ نَجِدْ لِهَذَا الْحَدِيثِ أَصْلًا قَالَ الشَّيْخُ: أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے شریک کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو عیوب سے برأت کی شرط پر بیع کے متعلق ہے، تو انہوں نے فرمایا: شریک نے اپنی کتاب میں موجود روایت کے خلاف جواب دیا، اور ہمیں اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ملی۔
شیخ فرماتے ہیں: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔