السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مال العبد باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10772
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ثَمَرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَأَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہے: ”کھجور کے درخت کا پھل پیوند کاری کرنے والے کے لیے ہے، مگر یہ کہ خریدار شرط لگا لے، اور غلام کا مال فروخت کرنے والے کے لیے ہے مگر یہ کہ خریدار شرط لگائے۔“