السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مال العبد باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10771
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ: " مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے مگر یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔ نبی ﷺ نے اس کا فیصلہ فرمایا کہ ”جس نے پیوندکاری کی ہوئی کھجور کو فروخت کر دیا تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کے لیے ہے مگر یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔“