السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مال العبد باب: غلام کے مال کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10773
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مَمْلُوكًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: مَا مَالُكَ يَا عُمَيْرُ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَكَ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلَّذِي أَعْتَقَ " وَرُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: ذَلِكَ لِعُمَيْرٍ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَفِيهِ قُوَّةٌ لِرِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَعْتَقَ أَبَاهُ عُمَيْرًا ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إنَّ مَالَكَ لِي ثُمَّ تَرَكَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عمران بن عمیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: اے عمیر! کیا تیرا مال ہے؟ میں تجھے آزاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے غلام آزاد کیا تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔“
عمران بن عمیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے والد عمیر کو آزاد کیا، پھر فرمایا کہ تیرا مال میرا ہے، پھر اس کو چھوڑ دیا۔