حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِيُّ بِأَنْطَاكِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مَنْا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ فَقَالُوا: مَا نَجْدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا إِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا اور اس کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اس کو احتلام ہو گیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم تیرے لیے رخصت نہیں پاتے اس لیے کہ تو پانی (استعمال کرنے) پر قدرت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا تو مر گیا۔ جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس (واقعہ) کی خبر دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو قتل کیا ہے اللہ ان کو قتل کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا، اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1077
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»