السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجرح إذا كان في بعض جسده دون بعض باب: جسم کے کچھ حصے پر زخم ہونے اور کچھ پر نہ ہونے کے احکام کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، ⦗٣٤٨⦘ عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهَا مَنِ النَّارِ كَذَا وَكَذَا "، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي. فَهَذَا الْحَدِيثُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهُ يُوجِبُ غُسْلَ الصَّحِيحِ مَنْهُ، وَالْكِتَابُ يُوجِبُ التَّيَمُّمَ لِمَا لَا يُقْدَرُ عَلَى غَسْلِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَظَاهِرُ الْكِتَابِ يَدُلُّ عَلَى اسْتِعْمَالِ مَا يَجِدُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ الرُّجُوعُ إِلَى التَّيَمُّمِ إِذَا لَمْ يَجِدْهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَتَوَضَّأُ وَيَتَيَمَّمُ فِي الْجُنُبِ لَا يَجِدُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَتَوَضَّأُ وَكَذَا، قَالَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَكَانَ الْحَسَنُ وَالزُّهْرِيُّ يَقُولَانِ يَتَيَمَّمُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے جسم سے جنابت کی حالت میں ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دی اور اس کو نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ سے اس طرح اس طرح کیا جائے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی ہے۔
(ب) یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کا حکم ہے۔ کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرلے۔
(ج) ابن ابی لبابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے گا اور تیمم کرے گا جب حالت جنابت میں پانی نہ ملے مگر اتنی مقدار میں جس سے وضو ہو سکے۔ معمر بن راشد رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔ امام حسن اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں: صرف تیمم کرے گا۔