حدیث نمبر: 1075
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مَنْا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ قَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، قَالَ: " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ - أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى - عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَيْهَا وَيَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِهِ ". وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مَوْصُولَةٌ جُمِعَ فِيهَا بَيْنَ غُسْلِ الصَّحِيحِ وَالْمَسْحِ عَلَى الْعِصَابَةِ وَالتَّيَمُّمِ إِلَّا إِنَّهَا تُخَالِفُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي الْإِسْنَادِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا تو اس کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے رخصت نہیں پاتے۔ آپ پانی پر قدرت رکھتے ہیں۔ اس نے غسل کیا تو مر گیا، جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس (واقعے) کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا۔ موسیٰ کو شک ہے کہ اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔“ یہ روایت موصول ہے، اس میں غسل، مسح اور تیمم کو جمع کر دیا گیا ہے۔ سند میں یہ روایت پہلی دونوں روایات کے مخالف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1075
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه أبوداؤد 336»