السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجرح إذا كان في بعض جسده دون بعض باب: جسم کے کچھ حصے پر زخم ہونے اور کچھ پر نہ ہونے کے احکام کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا ⦗٣٤٧⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ " قَالَ عَطَاءٌ: فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " لَوْ غَسَلَ جَسَدَهَ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجُرْحُ " فَهَذَا الْمُرْسَلُ يُقْتَضَى غُسْلَ الصَّحِيحِ مَنْهُ وَالْأَوْلُ يَقْتَضِي التَّيَمُّمَ فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا يَقُولُ: لَا تَنَافِيَ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ إِلَّا أَنَّ إِحْدَاهُمَا مُرْسَلَةٌ.عطا بن ابی رباح نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ سردی سے مر گیا۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے، اللہ ان کو ہلاک کرے۔ کیا جاہل کی شفا سوال کرنا نہیں ہے؟“
عطا کہتے ہیں: ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔“ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنہوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں: دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔