السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجرح إذا كان في بعض جسده دون بعض باب: جسم کے کچھ حصے پر زخم ہونے اور کچھ پر نہ ہونے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ - ثَلَاثًا - قَدْ جَعَلَ اللهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طُهُورًا " هَذَا حَدِيثٌ مَوْصُولٌ، وَتَمَامُ هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي أَرْسَلَهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی میں جنبی ہو گیا۔ اس نے پوچھا تو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ فوت ہو گیا، یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کیا تھا انہوں نے تو اس کو قتل کر دیا ہے، اللہ ان کو ہلاک کرے،“ تین مرتبہ فرمایا، ”اللہ نے مٹی یا تیمم کو پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔“ یہ حدیث موصول ہے۔