حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدِ الْمَاءَ أَيُصَلِّي، قَالَ: لَا فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا " وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً " قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ فَقَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِيدِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَقُلْتُ: لِشَقِيقٍ فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَا دَرَى عَبْدُ اللهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللهِ لِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ

شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آدمی جنبی ہو جاتا ہے اسے پانی نہیں ملتا، کیا وہ نماز پڑھے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کا قول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں سنا کہ مجھے اور تجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا، ہم جنبی ہو گئے، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ کافی تھا“ اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح کیا اور کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس پر قناعت کی۔ انہوں نے کہا: تم اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ان کو اس بارے میں رخصت دے دیں تو ان میں سے ہر ایک جب ٹھنڈا پانی پائے گا تو مٹی سے مسح کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا ہے۔ (ب) اعمش حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے معلوم نہیں جو عبداللہ کہا کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر ہم لوگوں کو اس مسئلہ میں رخصت دے دیں تو وہ جب بھی ٹھنڈا پائیں گے تو پانی کو چھوڑ کر تیمم کریں گے۔ میں نے شقیق سے کہا: اسی وجہ سے عبداللہ رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1072
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»