السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10724
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً أَوْ لِقْحَةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بَيْنَ أَنْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ، أَوْ يَأْخُذَهَا " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری یا اونٹنی خریدی، اس کو دو میں سے ایک کا اختیار ہے کہ اس کو واپس کر دے اور ایک برتن غلے کا دے دے یا اس یعنی جانور کو رکھ لے۔“