السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10723
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُهُ، فَخَرَجَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى أَتَى عَقَبَةً مِنْ عِقَابِ الْمَدِينَةِ فَقَعَدَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " ⦗٥٢١⦘ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَتَلَقَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ سُوقًا وَلَا يَبِيعَنَّ مُهَاجِرِيٌّ لِأَعْرَابِيٍّ، وَمَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ " أَوْ قَالَ: " مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا " تَفَرَّدَ بِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر آپ ﷺ کا انتظار کرتے تھے، آپ ﷺ نکلے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑے، آپ مدینہ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی پر آئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہر سے باہر تجارتی قافلے کو نہ ملے اور مہاجر دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے اور جس نے دودھ روکا ہوا جانور خریدا اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ اگر واپس کرے تو اس کی مثل بھی“ یا فرمایا: ”اس کے دو گنا گندم یعنی دودھ کے دو مثل گندم بھی دے۔“