کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر میں شدید سردی کی وجہ سے موت یا بیماری کا خوف ہونے پر تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلَتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِيَ الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ " فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: ٢٩] فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ فَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا، میں ڈر گیا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ یہ بات میں نے نبی ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا آپ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی حالانکہ آپ جنبی تھے؟“ میں نے آپ ﷺ کو وہ وجہ بتا دی جس نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا اور میں نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 29] سنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور آپ ﷺ نے کچھ نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَرَجُلٌ آخَرُ أَظُنُّهُ ابْنَ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُ فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ وَلَكِنِّي وَاللهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا هَلْ مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ قَالُوا: لَا، فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ " فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا " يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى بِنَا وَهُو جُنُبٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ تَعَالَى، قَالَ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ} [النساء: ٢٩] وَلَوِ اغْتَسَلَتُ مِتُّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو أَخْرَجَهُمَا أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، ثُمَّ، قَالَ: وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ فِيهِ: فَتَيَمَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِي الرِّوَايَتَيْنِ جَمِيعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَى غَسْلِهِ وَتَيَمَّمَ لِلْبَاقِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک سریے میں تھے۔ ان کو سخت سردی لگی، اس جیسی سردی پہلے نہیں دیکھی گئی، وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! مجھے کل احتلام ہو گیا تھا اور میں نے اس طرح کی سردی نہیں دیکھی تھی، کیا تم نے دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، پھر انھوں نے اپنے جوڑ دھوئے اور نماز جیسا وضو کیا۔ پھر ان کو نماز پڑھائی، جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ انھوں نے ان کی اچھی تعریف کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے ہم کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو انھوں نے سارا واقعہ بتلایا اور وہ بھی جو ان کو سردی لگی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] اگر میں غسل کر لیتا تو مر جاتا۔ رسول اللہ ﷺ عمرو کی طرف دیکھ کر ہنسے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں: دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کر لیں۔
(ب) شیخ کہتے ہیں: دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کر لیں۔
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدِ الْمَاءَ أَيُصَلِّي، قَالَ: لَا فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا " وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً " قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ فَقَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِيدِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَقُلْتُ: لِشَقِيقٍ فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَا دَرَى عَبْدُ اللهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللهِ لِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آدمی جنبی ہو جاتا ہے اسے پانی نہیں ملتا، کیا وہ نماز پڑھے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کا قول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں سنا کہ مجھے اور تجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا، ہم جنبی ہو گئے، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ کافی تھا“ اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح کیا اور کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس پر قناعت کی۔ انہوں نے کہا: تم اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ان کو اس بارے میں رخصت دے دیں تو ان میں سے ہر ایک جب ٹھنڈا پانی پائے گا تو مٹی سے مسح کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا ہے۔ (ب) اعمش حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے معلوم نہیں جو عبداللہ کہا کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر ہم لوگوں کو اس مسئلہ میں رخصت دے دیں تو وہ جب بھی ٹھنڈا پائیں گے تو پانی کو چھوڑ کر تیمم کریں گے۔ میں نے شقیق سے کہا: اسی وجہ سے عبداللہ رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے۔