السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع الأرزاق التي يخرجها السلطان قبل قبضها باب: بادشاہ کی طرف سے جاری کردہ رزق (غلے وغیرہ) کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْفَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِبَيْعِ الرِّزْقِ بَأْسًا " ⦗٥١٤⦘ وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِ الرِّزْقِ وَيَقُولُ: " لَا يَبِيعُهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ "، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ إِنْ شَاءَ اللهُ بِمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رزق کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رزق کی فروخت میں کوئی حرج نہیں، لیکن قبضے میں لینے سے پہلے اسے فروخت نہ کریں جو آپ نے خریدا ہے۔