السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: بيع الأرزاق التي يخرجها السلطان قبل قبضها باب: بادشاہ کی طرف سے جاری کردہ رزق (غلے وغیرہ) کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10694
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ " لَا تَبِعْ طَعَامًا مَا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ " فَحَكِيمٌ كَانَ قَدِ اشْتَرَاهُ مِنْ صَاحِبِهِ فَنَهَاهُ عَنْ بَيْعِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج خریدا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم لوگوں کو دیا۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کر دیا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سن لی تو اس پر واپس کر دیا اور فرمایا: ”اناج فروخت نہ کر جو آپ نے خریدا ہے جب تک قبضے میں نہ لے لو۔“ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی سے خریدا تو قبضے میں لینے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع کر دیا۔