السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: قبض ما ابتاعه جزافا بالنقل، والتحويل إذا كان مثله ينقل باب: جو چیز اندازے سے خریدی گئی ہو اس پر قبضہ اسے منتقل کرنے اور جگہ تبدیل کرنے سے ہوگا جب وہ چیز ایسی ہو جسے منتقل کیا جاتا ہو۔
حدیث نمبر: 10692
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْفَيْتُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِدَائِي مِنْ خَلْفِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: " لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلْعَةُ حَيْثُ تَبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے بازار سے تیل خریدا، جب میں اس کا مستحق ٹھہرا، مجھے ایک آدمی ملا جو مجھے اچھا منافع دے رہا تھا، میں نے اس سے بیع کرنا چاہی، میرے پیچھے سے ایک شخص نے میری چادر پکڑ لی، جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہنے لگے: جہاں سے آپ نے خریدا وہاں فروخت نہ کرو، یہاں تک کہ آپ اس کو اپنے گھر منتقل کر لیں، کیونکہ ”رسول اللہ ﷺ نے سامان کو اسی جگہ فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جہاں سے خریدا جائے، جب تک تاجر اپنے مقامات پر منتقل نہ کر لیں۔“