السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع ما لم يقبض، وإن كان غير طعام باب: جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان خواہ وہ غلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 10682
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ: " إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى أَهْلِ اللهِ، وَأَهْلُ مَكَّةَ فَانْهَهُمْ عَنْ بَيْعِ مَا لَمْ يَقْبِضُوا أَوْ رِبْحِ مَا لَمْ يَضْمَنُوا، وَعَنْ قَرْضٍ، وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ " تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میں تجھے اللہ والوں اور مکہ والوں کی طرف بھیج رہا ہوں۔ ان کو منع کرنا کہ جب تک چیز کا قبضہ حاصل نہ کریں فروخت نہ کریں یا کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھائیں جس کے نقصان کی وہ ذمہ داری قبول نہ کریں، اور قرض اور بیع، اور ایک بیع میں دو شرطیں، اور بیع اور قرض کے بارے میں۔“