السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع ما لم يقبض، وإن كان غير طعام باب: جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان خواہ وہ غلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 10683
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ فَنَهَاهُ عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ تَضْمَنْ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں ”ایک بیع میں دو شرطوں، قرض اور بیع، اس چیز کی بیع جو آپ کے پاس موجود نہیں اور اس کے نفع سے فائدہ اٹھانے سے جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ لی گئی ہو“ سے منع فرمایا۔