السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع ما لم يقبض، وإن كان غير طعام باب: جس چیز پر قبضہ نہ کیا گیا ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان خواہ وہ غلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حدیث نمبر: 10681
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ هِبَةُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ الطَّبَرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنا ⦗٥١١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ: " إِنِّي قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَهْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بِتَقْوَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مِنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَانْهَهُمْ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ وَعَنِ الصَّفَقْتَيْنِ فِي الْبَيْعِ الْوَاحِدِ، وَأَنْ يَبِيعَ أَحَدُهُمْ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ".حافظ ثناء اللہ
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کا عامل بنایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اللہ والوں اور پرہیزگار لوگوں کا امیر بنایا ہے۔“ جس چیز کے نقصان کی ذمہ داری نہ لی گئی ہو تو اس کے نفع سے ان میں سے کوئی ایک بھی نہ کھائے اور ان کو منع فرمایا کہ ”قرض اور بیع اور ایک بیع دو شرطوں سے اور یہ کہ فروخت کرے ان میں سے کوئی ایک جو اس کے پاس نہیں ہے۔“