السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تفسير العرايا باب: بیعِ عرایا کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدٌ، أنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ فَيَشُقَّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا فَيَبِيعَهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الْعَرَايَا» یہ ہے کہ آدمی کسی کو کھجوروں کے درخت ہبہ کر دیتا ہے، اس پر مشقت ہوتی ہے کہ ان کی رکھوالی کرے تو ان کو اس کے اندازے کے مطابق فروخت کر دیتا ہے۔