حدیث نمبر: 10656
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”درخت کے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے“ منع فرمایا ہے، لیکن «بَیْعُ الْعَرَایَا» ”بیع عرایا“ میں رخصت دی ہے کہ ”درخت کے پھل کو خشک کھجور کے بدلے اندازاً فروخت کیا جا سکتا ہے کہ اس کے اہل تر کھجور بھی کھا لیں۔“
حدیث نمبر: 10657
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْهُمٌ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَالَ: " ذَلِكَ الرِّبَا تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ " إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درخت کے پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا: ”یہ سود ہے، یہ مزابنہ ہے“ لیکن بیعِ عرایا میں رخصت دی کیونکہ گھر والے ایک یا دو کھجور کے درخت لے لیتے خشک کھجور کے بدلے اندازاً، پھر وہ تر کھجوریں کھاتے۔
حدیث نمبر: 10658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، قَالَ: " وَذَلِكَ الزَّبْنُ تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ "، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن یسار نبی ﷺ کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درخت کے پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”یہ ضرورت ہے یعنی مزابنہ ہے۔“
حدیث نمبر: 10659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں رخصت دی کہ ”گھر والے اس پھل کے اندازے کے مطابق خشک کھجور دے کر وہ رطب، تر کھجور کھاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 10660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ يَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“ ہے، لیکن ”«عَرَايا» میں رخصت دی“ ہے اور «عَرِيَّة» کھجور کا درخت قوم کے لیے مختص ہے اب وہ اس کے پھل کے اندازے سے خشک کھجور حاصل کر لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 10661
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا " وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بیع عرایا میں درخت کے پھل کے اندازے کی رخصت دی“۔
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ انسان کھجور کے درخت کے پھل اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے خریدتا ہے، خشک کھجور کے بدلے اندازاً۔
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ انسان کھجور کے درخت کے پھل اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے خریدتا ہے، خشک کھجور کے بدلے اندازاً۔
حدیث نمبر: 10662
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا " قَالَ مُوسَى: وَالْعَرَايَا: نَخَلَاتٌ مَعْلُومَاتٌ يَأْتِيهَا فَيَشْتَرِيَهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «بَيْعِ الْعَرَايَا» ”بیع عرایا“ میں رخصت دی کہ ”درخت کے پھل کو اندازے سے معلوم وزن کے بدلے فروخت کیا جا سکتا ہے۔“
(ب) عرایا، معلوم کھجور کے درخت ہوتے، وہ ان درختوں کے پاس آکر اس کو خرید لیتا تھا۔
(ب) عرایا، معلوم کھجور کے درخت ہوتے، وہ ان درختوں کے پاس آکر اس کو خرید لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 10663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ⦗٥٠٧⦘ أَنَّهُ قَالَ: " الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي الرَّجُلَ النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ لِيَأْكُلَهَا فَيَبِيعَهَا بِتَمْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد ربہ بن سعید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْعَرِيَّةُ» ”عریہ“ یہ ہے کہ آدمی، آدمی کو کھجور کا درخت عاریتاً دے دیتا ہے یا آدمی اپنے مال سے ایک یا دو درخت کھجور کے استثنا کر لیتا ہے تاکہ ان سے کھائے، تو وہ ان کو خشک کھجور کے بدلے خرید لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 10664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدٌ، أنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ فَيَشُقَّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا فَيَبِيعَهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الْعَرَايَا» یہ ہے کہ آدمی کسی کو کھجوروں کے درخت ہبہ کر دیتا ہے، اس پر مشقت ہوتی ہے کہ ان کی رکھوالی کرے تو ان کو اس کے اندازے کے مطابق فروخت کر دیتا ہے۔